Gandhi terrorism — No beard for the muslims of Slumdog India – دھشت گرد ھندو کبھی مسلمان کے دوست نہیں ھو سکتے

.

 .

.

دھشت گرد ھندو کبھی مسلمان کے دوست نہیں ھو سکتے

.

Boycott Slumdog India

 .

Dirty Gandhis of Slumdog India are terrorizing Pakistan

.

  

بھارتی مسلمان ڈاڑھی نہیں رکھ سکتے؟

  
  
-
-
-
 
Nov 6, 2008
Jasarat Newspaper
 

.

 
-
-
-دھشت گرد ھندو کبھی مسلمان کے دوست نہیں ھو سکتے
 
.
  
  

بھارت کی جمہورریت اور سیکولرزم کے شیدائیوں کے لیے ایک اور دلچسپ خبریہ ہے کہ وہاں اب مسلمانوں کے لیے ڈاڑھی رکھنا بھی جرم ہوگیاہے۔ ہندوستان کی اکثریتی آبادی کا ایساہی رویہ تشکیل پاکستان کا سبب بناتھا لیکن ایسے عقل کے اندھے بھی ہیں جنہوں نے پاکستان کی تھالی میں کھایا اور فخریہ کہتے ہیں کہ وہ اگر1947ءمیں ہوتے تو پاکستان کے حق میں ووٹ نہ دیتے۔ مگر ایسے لوگ ہندوستان میں رہتے تو بال ٹھاکرے کے ساتھ ہوتے یا سنگھ پریوارکا حصہ ہوتے ۔ عجیب بات ہے کہ افغانستان میں طالبان حکومت کے دورمیں اس کا بہت پروپیگنڈہ کیاگیا کہ طالبان زبردستی ڈاڑھیاں رکھواتے ہیں۔ آج بھی کہاجارہاہے کہ ڈنڈا بردار اورکلاشنکوف بردار شریعت قبول نہیں۔ لیکن کلاشنکوف بردار دہشت گردی اور بھتہ خوری مسلط کرنے میں کوئی عار نہیں ۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے والے بھارت میں جمہوریت اور تمام طبقات سے مساوی سلوک کی اصل صورتحال کیاہے اس کے بارے میں درج ذیل رپورٹ شاید کسی کے لیے چشم کشاہو۔ سابق ممبئی اسٹیٹ ہو یا موجودہ گجرات ومہاراشٹرریاستیں مسلم دشمنی‘ اس خطہ کی مٹی کے خمیر میں زمانہ قدیم سے دیکھی جاتی رہی ہے‘ مغل حکمراں شاہ جہاں کے زمانے میں بھی مسجدوں پرقبضے کرنے‘ مسلمان مردوں کو قتل کرنے اور مسلم خواتین کی آبروریزی اورجبراً اغواءکرکے اپنے گھروں میں ڈال لینے کے واقعات انجام دیئے گئے تھے اورآزادی کے بعد سے بھی ان دونوں ریاستوں کے کسی نہ کسی علاقہ‘ شہر‘قصبہ یاگاﺅں سے رک رک کر مسلم مخالف فسادات کی خبریں آتی رہی ہیں۔ ریاستی اسمبلیوں اورپارلیمنٹ کے الیکشن قریب آنے پرمسلم مخالف دہشت گردی کے سہارے ووٹوں کی سیاست کرنے والوں نے جو تازہ مہم شروع کی ہے ہر روزکسی نہ کسی جگہ سے اس کی خبریں مسلسل آرہی ہیں۔ فرقہ وارانہ فسادات کے نام پر مسلم مخالف جارحیت اور تشدد کے واقعات عام طورسے شہروں اورقصبات تک محدود رہتے ہیں لیکن تازہ مہم میں گاﺅوں کوبھی نشانہ بنایاجارہاہے جہاں اکادکا مسلم خاندانوں پر ہندتو وادی دہشت گردی کی لیبارٹری کے تجربات کئے جارہے ہیں۔ اس طرح کی ایک خبر مہاراشٹرکے دھولے سے متصل کھنڈلائی گاﺅں کے سلسلے میں آئی ہے۔ روزنامہ میل ٹوڈے کے نمائندہ کرشنا کمارکے مطابق دھولے میں 5 اکتوبر کوبھڑکے مسلم مخالف تشدد میں کم ازکم تیرہ افرادکو اپنی جانوں سے ہاتھ دھونے پڑے ہیں دو روز بعد 7 اکتوبرکو کھنڈلائی گاﺅں میں جس کی کل آبادی تقریباً سات ہزار ہے پندرہ مسلم خاندان رہتے ہیں۔ مسلمانوں کو گاﺅں میں رہنے کے لئے شرط کے طورپر مذہب اور ایمان ویقین کی آزادی سے دستبردار ہونا پڑا ہے جبراً ان کی داڑھیاں مونڈھ دی گئیں۔ مسجد کا رخ کرنے پر پابندی لگادی گئی‘ اذان دینے کو ممنوع قرار دے دیاگیا۔ سنگھ پریوار کے لیڈروں یامخصوص بی جے پی کے شیواجی رام پاٹل ووجے پاٹل اوربجرنگ دل کے ایاپاگڑے اورریاست میں برسراقتداراتحاد کی دونوں پارٹیوں کانگریس ونیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے لیڈروں کی سربراہی میں سیکڑوں افرادپر مشتمل بھیڑ نے دوپہرکے وقت مسلمانوں کو ان کے گھروں سے کھینچ اورگھسیٹ کرباہرنکالا اورداڑھیاں منڈانے‘ مسجدوں میں جانے‘ اذان کے لئے لاﺅڈ اسپیکر کا استعمال بندکرنے کاحکم دیا۔ انہوں نے اعتراض کیا تو فیصلہ سنادیا کہ بات نہیں مانی تو گھرجلادیئے جائیں گے۔ ان کی عورتوں کی آبروریزی کردی جائے گی اور انہیں گاﺅں میں نہیں رہنے دیاجائے گا۔ اب تمہیں اختیارہے چاہے داڑھی بچالو چاہے جان بچالو“۔ یہ درخواست کرنے پرکہ ”ہم داڑھیاں بعد میں منڈادیں گے“ انہیں کھینچتے گھسیٹتے ‘مارتے پیٹتے اور دھکیلتے ہوئے نائی کی دکان پرلے جایاگیا اور زبردستی داڑھیاں منڈوادی گئیں۔ ظلم وستم کا سلسلہ اس پربھی نہیں رکا انہیں گاﺅں بھرمیں لات گھونسوں‘ تھپڑوں سے مارتے پیٹتے‘ گالیاں دیتے کھینچتے گھسیٹتے اوردھکیلتے ہوئے گاﺅں بھر میں گھمایاگیا۔ گالیاں دی گئیں‘ دھمکیاں دی گئیں۔ ان کے مذہب کے بارے میں بدکلامی کی گئی۔ ذلیل ورسواکیاگیا۔ ستر اسی سال کے بوڑھوں اورمعصوم بچوں کو بھی نہیں بخشا گیا۔ گھنٹوں کی اس ابتلاءوآزمائش کے بعد کہہ دیا گیا اگر تمہیں یہاں رہنا ہے تو اب ہماری طرح رہنا پڑے گا۔ آج کے بعد کبھی داڑھیاں نہیں بڑھاﺅگے“۔ اس ظلم وجبراور ذلت ورسوائی کے بعد مسلمان گھروں میں پہنچے تو وہاں کہرام مچاہوا تھا‘کوئی سمجھ نہیں پارہاتھاکہ یہ سب کچھ کیوں کیاگیاہے ؟ وہ تو اس بات پرخوش ہواکرتے تھے کہ اس گاﺅں میں تو کبھی کوئی فرقہ وارانہ لڑائی جھگڑا نہیں ہوا یہاں سب کے آپس میں خوشگوار تعلقات ہیں وہ تو نارائن پوجا جیسے ہندوتہواروں میں بھی حصہ لیتے تھے اور چندہ بھی دیتے تھے۔ اخبارمذکورکے نمائندے کے مطابق لوکل پولیس اور انتظامیہ کے افسران کہہ رہے ہیں ہم کیس کو دیکھیں گے۔ انکوائری کرائیں گے۔ اگریہ الزامات ثابت ہوئے تو کارروائی کی جائے گی۔ دھولے کے کلکٹر پر اجکتا لاونجارے کہہ رہے ہیں ”یہ بہت سنگین مسئلہ“ ہے۔ میں علاقے میں تعینات ریونیو افسرسے تفصیلات معلوم کروں گا۔ اگر یہ الزام درست ثابت ہوا تو سخت کارروائی کویقینی بنایاجائے گا۔ ڈی ایس پی دھولے (دیہات) انیتاپاٹل کہتی ہیں وہ اس مسئلہ کو دیکھیں گی۔ اگرشکایت درج کرائی جائے گی تو تفتیش کریں گی۔ قارئین جانتے ہیں کہ بم دھماکا جیسی دہشت گردانہ کارروائیاں کرنے کے بعد فوراً پولیس کو نہ صرف کیس کا پتہ چل جاتاہے بلکہ سیمی اورمجاہدین وغیرہ کے نام پر مسلمانوں کو مجرم بھی قرار دے دیاجاتاہے کہ کسی تفتیش یا غوروفکر کی بھی ضرورت نہیں ہوتی اورپھر دھرپکڑ یا مڈبھیڑ کا سلسلہ بھی شروع ہوجاتاہے ۔ اس معاملے میں نہ صرف یہ کہ افسران کو پتا نہیںہے۔ وہ کہہ رہے ہیں اگر رپورٹ لکھائی جائے گی تو وہ تفتیش کرکے سچائی کا پتا لگائیں گے‘ اگر الزام درست ہوا تو کارروائی کریں گے مگر کس کے خلاف؟۔

 
 
 

 

 

 

Dirty Gandhis of Slumdog India are terrorizing Pakistan

.دھشت گرد ھندو کبھی مسلمان کے دوست نہیں ھو سکتے

.

.

.

.

.

.

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.